اسے سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تصور کریں کئی بینک ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے روزانہ پہلے سے طے شدہ وقت کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر بینک مختلف شرح سود پر قرض دینے کو تیار ہوتا ہے۔ اس تمام معلومات کو اکٹھا کرکے، ایک اوسط شرح نکالی جاتی ہے، اور یہی اوسط شرح کیبور ریٹ ہوتی ہے۔
کیبور ریٹ کا استعمال مختلف مالیاتی معاملات میں ہوتا ہے، جیسے کہ:
* قرضوں کی شرح سود کا تعین: بہت سے قرضے کیبور ریٹ پر مبنی سود کی شرح رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ قرض کی سود کی شرح کیبور ریٹ میں تبدیلی کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
* دیگر مالیاتی معاملات: یہ شرح سرمایہ کاری اور دیگر مالیاتی معاملات میں بھی ایک اہم اشارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ، کیبور ریٹ ایک اہم مالیاتی اشارے ہے جو پاکستان میں سود کی شرحوں کا خاکہ پیش کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر بہت سے مالیاتی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ شرح اونچی ہو تو قرضے مہنگے ہوتے ہیں اور کم ہو تو سستے۔